نئی دہلی، 29جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ملک کی عدالت عظمی نے موبائل پیغام رسانی ایپ وہاٹس ایپ، ہائک،ا سنیپ چیٹ اور دوسرے ایسے ایپس پر پابندی کامطالبہ کرنے والی عرضی کو مسترد کر دیا ہے۔کورٹ نے بدھ کو درخواست گزار سے کہا کہ ہم اسے سماعت کے قابل نہیں سمجھتے،اگر آپ کو یہ ضروری لگتا ہے تو آپ حکومت یا ٹی ڈی ایس اے ٹی کے پاس جا سکتے ہیں۔دراصل وہاٹس ایپ اوردوسرے پیغام رسانی ایپ پر اینکرپشن سسٹم لاگو ہونے کے بعد اسے ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ بتایا گیا تھا۔دلیل ہے کہ اس کے بعد کسی کے لئے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ دو لوگوں کے درمیان یا گروپ کے درمیان کی گئی بات کو پکڑ سکے۔سپریم کورٹ سے وہاٹس ایپ پر پابندی لگانے کی درخواست ہریانہ کے آر ٹی آئی کارکن سدھیر یادو نے لگائی۔سدھیر کی اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ وہاٹس ایپ نے اپریل سے ہی اینکپرشن لاگو کیا ہے، جس سے اس پر بات چیت کرنے والوں کی باتیں محفوظ رہتی ہیں۔یہاں تک کہ سیکورٹی ایجنسیاں بھی انہیں وضاحت نہیں کر سکتیں۔پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر خود وہاٹس ایپ بھی چاہے تووہ بھی ان پیغامات کو فراہم نہیں کر سکتا۔آر ٹی آئی کارکن کا کہنا ہے کہ اینکرپشن کی وجہ سے دہشت گردوں اورمجرموں کو میسج کے تبادلے میں آسانی ہوگی اور ملک کی سلامتی کو خطرہ ہوگا۔سیکورٹی ایجنسیاں ان پیغامات کو مانیٹر نہیں کرپائیں گی۔ایسے میں وہاٹس ایپ پر پابندی لگنی چاہئے۔درخواست میں وہاٹس ایپ کے علاوہ اور بھی دوسرے ایپ کاذکرکیا گیا ہے۔